ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہوناور میں پریش میستا کی مشتبہ موت کا معاملہ: کمٹہ تشدد کے ملزمین پر سے کیس واپس لیے گئے۔ کاروار کے ملزمین کو نہیں ملی راحت

ہوناور میں پریش میستا کی مشتبہ موت کا معاملہ: کمٹہ تشدد کے ملزمین پر سے کیس واپس لیے گئے۔ کاروار کے ملزمین کو نہیں ملی راحت

Tue, 10 Mar 2020 14:37:36    S.O. News Service

بھٹکل  10/مارچ (ایس او نیوز) ہوناور میں سال 2017کے دسمبر میں پریش میستا نامی نوجوان کی مشتبہ حالت میں لاش ملنے کے بعد ہوناور کے علاوہ ضلع شمالی کینرا کے کمٹہ، کاروار، سرسی وغیرہ میں پرتشدد احتجاج کی وارداتیں پیش آئی تھیں۔

 کمٹہ میں بڑے پیمانے پرتشدد پھوٹ پڑا تھااور منگلورو زون کے آئی جی پی کی کار کو بھی نذر آتش کردیا گیا تھا۔ اس پس منظر میں جملہ 108 ہندوتوا وادی نوجوانو ں پرپولیس نے قتل کی کوشش جیسی سنگین دفعہ 307 کے علاوہ 365,368اور368دفعات کے تحت چار فوجداری مقدمات درج کیے تھے۔ ان ملزمین میں اُس وقت کے سابق رکن اسمبلی دینکر شیٹی کا نام بھی شامل تھا۔ کمٹہ کی عدالت میں تقریباًڈیڑھ سال تک یہ کیس چلتے رہے الیکشن کے بعد جب دینکر شیٹی رکن اسمبلی منتخب ہوئے تو یہ معاملہ بنگلورو میں واقع عوامی منتخب نمائندوں کی خصوصی عدالت میں منتقل کیاگیا۔

 اب خبر ملی ہے کہ کمٹہ میں ہوئے تشدد کے چار واقعا ت میں ملوث بتائے گئے ملزمین پر سے ریاستی سرکار نے مقدمات واپس لیے ہیں۔ جب کہ کاروار کے ملزمین کو ابھی کوئی راحت نہیں ملی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ بھٹکل کے رکن اسمبلی سنیل نائک نے اراکین اسمبلی کی میٹنگ میں حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ پریش میستا کی موت کے بعد ہوئے تشدد کے معاملات میں بے قصوروں کو پھنسایا گیا ہے اس لئے یہ مقدمات واپس لیے جائیں۔اس کے علاوہ کمٹہ کے رکن اسمبلی دینکر شیٹی نے ریاستی وزیر داخلہ بسواراج بومائی سے اصرار کیا تھا کہ کمٹہ کے 108ملزمین پر سے مقدمات واپس لیے جائیں۔     

اس پر ریاستی حکومت نے اقدام کرتے ہوئے بنگلورو کی عوامی منتخب نمائندوں کی عدالت میں 108افرادپرچل رہے مقدمات واپس یے ہیں۔ البتہ جو معاملا ت کاروار کی عدالت میں چل رہے ہیں، ان ملزمین کو ابھی کوئی راحت نہیں ملی ہے۔جس کی وجہ سے ضلع کے دوسرے مقامات پر ہندوتوا کے نام پر احتجاج کے لئے آگے بڑھنے اور مقدمات میں پھنس جانے والے نوجوانوں میں مایوسی پیدا ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ منتخب عوامی نمائندوں نے ان کے مفادات کا خیال نہیں رکھااور تمام ملزمین کو راحت دلانے میں دلچسپی نہیں لی۔
 


Share: